مسلم لیگ (ن) کی ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے بیرسٹر افتخار گیلانی کے نام پر غور کیے جانے کی اطلاعات کے بعد پارٹی کے کارکنوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر متعدد کارکنوں کا مؤقف ہے کہ اگر عام انتخابات میں مسلسل ناکام رہنے والے امیدوار کو ٹیکنوکریٹ نشست دی گئی تو یہ میرٹ اور کارکنوں کے اعتماد کے خلاف ہوگا۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں کارکن راجہ شاداب سکندر ایڈووکیٹ کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے ٹیکنوکریٹ نشست کا وعدہ کیا گیا تھا۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ مرکزی قیادت میرٹ، کارکنوں کے اعتماد اور کیے گئے وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔ تاہم ٹیکنوکریٹ نشست کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔



