آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مرحلے کے ساتھ ہی مخصوص نشستوں کی تقسیم بھی سیاسی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق راجہ شاداب سکندر خان کا نام ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے لیے زیرِ غور ہے، تاہم امیدواروں کی حتمی منظوری مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کی جانب سے ہونا باقی ہے۔

ایسے میں ایک اہم سوال سامنے آ رہا ہے:

کیا رانا ثناء اللہ اور امیر مقام، شاداب سکندر خان سے کیے گئے مبینہ تحریری وعدے پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے؟ اور کیا مخصوص نشست بالآخر شاداب سکندر خان ہی کو دی جائے گی؟

رانا ثناء اللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اپنی اکثریت سے حکومت بنائے گی، جبکہ امیر مقام بھی آزاد کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کی بات کر چکے ہیں۔

اب نگاہیں مخصوص نشستوں کے حتمی فیصلے پر ہیں، جہاں شاداب سکندر خان کے سیاسی مستقبل کے ساتھ ایک اور سوال بھی جڑا ہے:

کیا سیاسی وعدہ عملی فیصلے میں تبدیل ہوگا؟