مظفرآباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں النور نیوز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راجہ ارسلان عابد کا نام انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی فہرست میں درج کیا گیا ہے۔
منسلک سرکاری دستاویز کے صفحہ اول پر راجہ ارسلان عابد ولد راجہ عابد حسین کا نام فہرست میں 23ویں نمبر پر درج ہے، جبکہ ان کے ضلع کے خانے میں کوٹلی اور موجودہ قیام کے حوالے سے ہنگری درج ہے۔
النور نیوز نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف دہشت گردی یا کسی کالعدم تنظیم کی حمایت کے تاثر کو مسترد کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنے کی کوریج ایک صحافتی سرگرمی تھی اور کسی احتجاج یا تنظیم سے متعلق خبر نشر کرنے کو اس کی حمایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
النور نیوز کے مطابق اس نے عوامی ایکشن کمیٹی یا کسی دوسرے سیاسی گروہ کی حمایت نہیں کی بلکہ مقامی نیوز ادارے کی حیثیت سے ایک اہم عوامی اور سیاسی پیش رفت کو رپورٹ کیا۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ ایسے احتجاج اور دھرنے بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع ابلاغ میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، اس لیے محض کسی واقعے کی کوریج کو کسی تنظیم کے سیاسی مؤقف کی تائید کے مترادف قرار دینا درست نہیں۔
النور نیوز نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں اور افواجِ پاکستان کا احترام کرتا ہے اور اس کی ادارتی پالیسی حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی پابند ہے۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ آج تک اس کے پلیٹ فارم سے دانستہ طور پر ایسی کوئی خبر نشر نہیں کی گئی جس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا پاکستان کے فوجی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانا یا دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دینا ہو۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل
النور نیوز کے سی ای او راجہ ارسلان عابد نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ کسی صحافی یا میڈیا ادارے کے خلاف کارروائی محض سیاسی بنیادوں یا خبر کی کوریج کے باعث نہ ہو۔
راجہ ارسلان عابد کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور قانون کا احترام اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اگر کسی صحافتی ادارے کے خلاف کارروائی کا سبب محض کسی احتجاج یا سیاسی سرگرمی کی رپورٹنگ ہو تو ایسے اقدام کا شفاف قانونی جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے اور اگر النور نیوز یا اس کے کسی رکن کے خلاف کوئی ٹھوس الزام یا ثبوت موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق سامنے لایا جانا چاہیے۔
خبر دینا حمایت نہیں
النور نیوز کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی کام خبر دینا ہے نہ کہ کسی جماعت، تنظیم یا تحریک کا حصہ بننا۔
ادارے کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کو رپورٹ کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ یہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک اہم عوامی معاملہ بن چکا تھا۔ النور نیوز کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی رپورٹنگ میں حتی الامکان مختلف فریقوں کا مؤقف سامنے رکھنے کی کوشش کی اور حساس صورتحال کے باعث اپنی کوریج کو ایک حد تک محدود بھی رکھا۔
ادارے کے مطابق اس محدود رپورٹنگ کے باوجود اس کے سی ای او کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہونا آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔
راجہ ارسلان عابد کا کہنا ہے کہ النور نیوز نے حساس حالات میں محتاط انداز میں رپورٹنگ کی اور کئی معاملات میں اس حد تک جانے سے گریز کیا جہاں ادارے یا اس سے وابستہ افراد کو مزید کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
ہلاکتوں سے متعلق متضاد دعوے
عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف فریقوں کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔
راجہ ارسلان عابد کے مطابق مظاہرین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ واقعات میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پولیس حکام کی جانب سے اپنے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
النور نیوز کا کہنا ہے کہ وہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا اس لیے کسی بھی فریق کی جانب سے پیش کی جانے والی تعداد کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
ادارے نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں میڈیا کی ذمہ داری مختلف فریقوں کے دعووں کو واضح نسبت کے ساتھ رپورٹ کرنا اور جہاں آزادانہ تصدیق ممکن نہ ہو وہاں اسے قارئین اور ناظرین پر واضح کرنا ہے۔
عذرا عالم، سفیہ عالم اور ان کی والدہ سے متعلق دعویٰ
النور نیوز نے اپنی اینکر عذرا عالم، ایڈیٹر سفیہ عالم اور ان کی والدہ کی مبینہ حراست پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے وکیل کے مطابق تینوں کو حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔ النور نیوز نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سیاسی اجتماع میں شرکت یا اس کی کوریج کے تناظر میں کسی فرد کے خلاف کارروائی کی صورت میں قانونی طریقۂ کار، الزامات اور شواہد واضح ہونے چاہیں۔
النور نیوز کے مطابق سینیٹر مشتاق احمد سے منسلک ایک جلسے میں شرکت کو بھی کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے، جب تک کسی فرد کے خلاف کسی قابلِ تعزیر جرم کے ارتکاب کے واضح شواہد موجود نہ ہوں۔
النور نیوز کی جانب سے عذرا عالم، سفیہ عالم اور ان کی والدہ کے بارے میں کیے گئے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق اس خبر کے لیے دستیاب مواد سے نہیں ہو سکی۔
حکومت پر حالات خراب کرنے کا الزام
راجہ ارسلان عابد نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے حالات کو بروقت سیاسی اور انتظامی طریقے سے حل کرنے کے بجائے انہیں اس نہج تک پہنچنے دیا جہاں صورتحال مزید کشیدہ ہوئی۔
تاہم النور نیوز کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازع میں کسی فریق کا حصہ نہیں اور نہ ہی عوامی ایکشن کمیٹی یا کسی دوسری سیاسی تنظیم کی نمائندگی کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق حکومت مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کا جائزہ لینا اور ان سے متعلق قابلِ خبر معلومات عوام تک پہنچانا صحافت کا حصہ ہے۔
النور نیوز خبر نشر کرتا ہے دہشت گردی کو فروغ نہیں دیتا
راجہ ارسلان عابد نے اپنے خلاف لگائے جانے والے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ النور نیوز کسی کالعدم تنظیم، دہشت گردی یا تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔
ان کے مطابق النور نیوز خبر نشر کرتا ہے دہشت گردی کو فروغ نہیں دیتا۔ کسی واقعے دھرنے یا احتجاج کی کوریج اس واقعے میں شریک کسی تنظیم کی حمایت نہیں ہوتی۔ اگر ہماری کسی خبر میں حقائق کی غلطی ثابت ہو تو اسے صحافتی اصولوں کے مطابق درست کیا جا سکتا ہے، لیکن خبر دینے کو دہشت گردی سے جوڑنا درست نہیں۔
النور نیوز کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی صحافتی پالیسی میں پاکستان اور کشمیر سے متعلق معاملات کو اہمیت دی ہے اور ریاستی و قومی سلامتی کے اداروں کے احترام کے ساتھ رپورٹنگ کی کوشش کی ہے۔
ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ راجہ ارسلان عابد کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی وجوہات اور ان کے خلاف موجود شواہد واضح کیے جائیں اور انہیں قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے اور فیصلے کو چیلنج کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔
النور نیوز کے مطابق قومی سلامتی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے ساتھ آزادیٔ صحافت، قانونی طریقۂ کار اور کسی بھی الزام کے جواب کا حق بھی برقرار رہنا چاہیے۔



