حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن سردار عمر نذیر نے حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد سمجھا جاتا تھا تو گزشتہ برسوں میں اس کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے گئے مطالبات کیوں تسلیم ہوئے اور معاہدے کیوں کیے گئے؟

دوسری جانب حکومتی مؤقف کے مطابق ایکشن کمیٹی کے خلاف کارروائی بعد میں سامنے آنے والے سکیورٹی خدشات اور مبینہ سرگرمیوں کے تناظر میں کی گئی۔

النور نیوز مذکورہ الزامات یا ان کی تردید کی آزادانہ تصدیق نہیں کر رہا۔ یہ خبر متعلقہ فریقین کے سامنے آنے والے مؤقف کی بنیاد پر رپورٹ کی جا رہی ہے۔

یاد رہے اس سے قبل حکومت نے شوکت نواز میر، سردار عمر نذیر کشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کے سروں کی قیمت ایک کروڑ لگائی تھی جبکہ شوکت نواز میر کو گرفتار کر لیا گیا تھا