ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ’صدر مسعود پزشکیان کی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ رہبرِ اعلیٰ حکومت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’یہ ملاقات محض صدر کے استعفے سے متعلق افواہوں کا جواب نہیں بلکہ باہمی رابطے، اعتماد اور حمایت پر مبنی تعلقات کے تسلسل کا ایک اور ثبوت ہے۔‘

ان کا اشارہ صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کی تردید کی جانب تھا۔ بعد ازاں صدر پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ نے بھی ان خبروں کو جھوٹ اور افواہیں قرار دیا تھا۔

ایرانی حکومت اور مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان سات گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے مختلف سیاسی حلقے جنگ اور مذاکرات کے دوران صدر پزشکیان کی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے صدر اور حکومت کی واضح حمایت مختلف مواقع پر سامنے آ چکی ہے۔‘

فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’ملک کے سیاسی ماحول میں تعمیری تنقید اور ایسے اقدامات کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے جو دراصل عوام میں عدم اعتماد اور سیاسی تقسیم پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔‘