خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق شہباز شریف نے یہ گفتگو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کی۔

واضح رہے کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کی جائیں

اس مطالبے کو لے کر احتجاج بھی کیا گیا جس کی وجہ سے حالات میں کشیدگی بھی آئی

اے پی پی کے مطابق شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بعض عناصر نے ’جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کی کوشش کی۔

اے پی پی نے رپورٹ کیا ہے کہ شہباز شریف نے کہا: ’تجویز دی گئی کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے انتخابات کے بعد نو منتخب اسمبلی میں اپنا مقدمہ لے کر آئیں، جو اکثریت سے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا اسے قبول کیا جائے گا۔‘

وزیر اعظم پاکستان نے مزید کہا کہ ’تمام باتیں طے ہو گئی تھیں لیکن وہ (کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی) اڑے رہے، بے جا ضد سے معاملات خراب ہو گئے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے اور ’مذاکرات کا سلسلہ نئی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد آگے بڑھے گا۔‘

ان کے مطابق جو افراد بھی ’امن، تحمل اور برداشت کے ساتھ معاملات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں، نئی حکومت انھیں یہ موقع فراہم کرے گی۔‘