اسلام آباد: سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں کشمیر کے حق میں ہونے والے احتجاج میں شریک مظاہرین، طلبہ و طالبات اور کشمیری شہریوں کی گرفتاریوں کو پانچ روز مکمل ہوگئے، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور متعلقہ وکیل نے زیرِ حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
متعلقہ وکیل کے بیان کے مطابق گرفتار افراد میں النور نیوز کی اینکر عذرا عالم، ان کی بہن سفیہ عالم، جو یونیورسٹی کی طالبہ ہیں، اور ان کی والدہ بھی شامل ہیں۔ وکیل کا دعویٰ ہے کہ طلبہ و طالبات اور دیگر کشمیری شہریوں کو رات کے وقت مختلف کارروائیوں کے دوران ہاسٹلز، گھروں اور رہائش گاہوں سے حراست میں لیا گیا۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ پانچ روز گزرنے کے باوجود صورتحال نے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان طلبہ و طالبات کے خلاف ایسی کارروائیاں نہ صرف ان کی تعلیم اور مستقبل پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہیں بلکہ آزادیٔ اظہار، پُرامن احتجاج اور شہری آزادیوں سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔
واقعے پر سیاسی حلقوں سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق اور مشعال ملک کی جانب سے گرفتاریوں کی مذمت کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت معاملے کا فوری نوٹس لے اور زیرِ حراست طلبہ، طالبات اور دیگر شہریوں کی رہائی یقینی بنائی جائے۔
متاثرین اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص پر کوئی قانونی الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، تاہم محض احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر نوجوانوں کی تعلیم اور مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
اس معاملے نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد مبصرین وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سوال کر رہے ہیں کہ کشمیریوں سے یکجہتی اور خود کو "کشمیر کی بیٹی" کہنے کے سیاسی بیانیے کے ہوتے ہوئے کشمیری طلبہ و طالبات اور شہریوں کی گرفتاریوں کے معاملے پر حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
متاثرہ خاندانوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کشمیر کے حق میں آواز اٹھانا جرم بن گیا ہے؟ کیا ایک طالب علم کا احتجاج میں شریک ہونا اس کے تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگانے کے لیے کافی ہے؟ اور اگر گرفتاریاں قانون کے مطابق ہوئی ہیں تو حکومت مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہ لائے؟
خاندانوں اور مظاہرین نے وفاقی و متعلقہ صوبائی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کی قانونی حیثیت، ان کے خلاف درج مقدمات اور حراست کی وجوہات فوری طور پر واضح کی جائیں اور جن افراد کے خلاف قابلِ قانونی شواہد موجود نہیں انہیں بلا تاخیر رہا کیا جائے
پانچ روز سے جاری یہ معاملہ اب صرف چند گرفتاریوں کا سوال نہیں رہا؛ یہ طلبہ کے مستقبل، پُرامن احتجاج کے حق، آزادیٔ اظہار اور ریاستی اداروں کی جوابدہی کا امتحان بنتا جا رہا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ واضح ہے:
"طلبہ و طالبات اور بے گناہ شہریوں کو فوری رہا کیا جائے، گرفتاریوں کی مکمل تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں اور کسی نوجوان کا تعلیمی مستقبل محض پُرامن سیاسی یا انسانی حقوق کی سرگرمی میں شرکت کی وجہ سے تباہ نہ کیا جائے۔"
حکومت سے جواب طلب
اس معاملے میں متعلقہ حکام کا تفصیلی مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ گرفتاریوں کی قانونی بنیاد، زیرِ حراست افراد کی تعداد اور ان پر عائد الزامات واضح ہوسکیں۔ اگر حکومت یا متعلقہ پولیس کی جانب سے باضابطہ مؤقف جاری کیا جاتا ہے تو اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مزید 10 افراد انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے چوتھے شیڈول میں شامل
مظفرآباد۔۔۔۔۔ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK-JAAC) سے مبینہ طور پر وابستگی ظاہر کرتے ہوئے 10 افراد کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے چوتھے شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ منظوری 5 جون 2026 کو ہونے والے آزاد کشمیر کابینہ کے 41ویں اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر آزاد جموں و کشمیر نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کی دفعہ 16(1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان افراد کو ایکٹ کے چوتھے شیڈول میں رکھنے کی منظوری دی۔
چوتھے شیڈول میں شامل کیے جانے والے افراد میں اعجاز احمد خان، عذرا عالم، محمد زوہیب خان، محمد نبیل تبسم، زیشان احمد، راجہ وسیم صابر، راجہ محمد منصور خان، قیصر کلیم، حمزہ نصیر اور نبیلہ ارشاد شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق ان میں سے دو افراد کا تعلق ضلع باغ، ایک کا مظفرآباد، دو کا پونچھ اور ایک کا سدھنوتی سے ہے، جبکہ دیگر چار افراد سے متعلق کوئی تفصیل درج نہیں۔
نوٹیفکیشن کی نقول وزارت داخلہ حکومت پاکستان، نادرا، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA)، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر، پولیس حکام، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں ان افراد کو چوتھے شیڈول میں شامل کرنےسے متعلق دستاویز میں ہر فرد کے خلاف الگ الگ الزامات یا مبینہ سرگرمیوں کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
چوتھے شیڈول میں شامل کیے جانے کے بعد متعلقہ افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں آ جاتے ہیں اور ان پر نقل و حرکت، سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں، بیرونِ ملک سفر، مالی معاملات اور دیگر امور سے متعلق مختلف قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ تاہم چوتھے شیڈول میں شامل ہونا بذاتِ خود دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ ہونے کے مترادف نہیں ہے



