اس احتجاج کی کوریج کے لیے Al Noor TV کی اینکر پرسن عذرا عالم بھی موجود تھیں، جو بطور صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کر رہی تھیں۔
افسوس کہ اس کے بعد عذرا عالم، ان کی چھوٹی بہن صفیہ عالم، جو یونیورسٹی میں پانچویں سمسٹر کی طالبہ ہیں اور انہی دنوں ان کے امتحانات بھی ہونے تھے، اور ان کی والدہ محترمہ نسیم عالم کو نشانہ بنایا گیا۔
رات ڈیڑھ سے دو بجے کے درمیان پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اب تک انہیں کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے، جبکہ اہلِ خانہ کو بھی ان کی حالت اور مقام کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔
ایسے اقدامات نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور آئینِ پاکستان کی روح سے بھی متصادم ہیں۔
میں حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ صحافی عذرا عالم، طالبہ صفیہ عالم، محترمہ نسیم عالم اور ان کے ساتھ گرفتار کیے گئے 88 کشمیری طلبہ و طالبات سمیت تمام زیرِ حراست افراد کو قانون کے مطابق انصاف فراہم کرتے ہوئے فوری رہا کیا جائے۔
جاوید چوہان
سابق جنرل سیکرٹری، JKSLF UPR
اسٹوڈنٹ لیڈر




