راولاکوٹ، مظفرآباد اور کوٹلی میں مختلف اوقات میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ احتجاج میں شریک افراد کا مؤقف تھا کہ وہ بنیادی حقوق اور عوامی مطالبات کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔
ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر حکومت یا متعلقہ حکام کے پاس یہ شواہد موجود ہیں کہ مظاہرین بیرونی، خصوصاً بھارتی، ایجنڈے یا اشاروں پر کام کر رہے تھے تو وہ ثبوت عوام اور میڈیا کے سامنے کیوں پیش نہیں کیے گئے۔ دوسری جانب مظاہرین ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے احتجاج کو آئینی اور پرامن قرار دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں پیش آنے والے واقعات پر بھی شفاف تحقیقات اور واضح مؤقف ضروری ہے، تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور عوامی اعتماد برقرار رہے۔




