ناظرین! جب احتجاج کی آوازوں کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے، جب اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کا راستہ اختیار کیا جائے، تو سوال صرف ایک احتجاج کا نہیں رہتا، بلکہ ریاست، قانون اور جمہوری اقدار کا بن جاتا ہے۔

آج کے حالات ایک بار پھر یہی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا طاقت ہر مسئلے کا حل ہے؟ یا پھر مذاکرات، برداشت اور آئین کی بالادستی ہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو استحکام دے سکتا ہے؟

احتجاج کرنے والوں کا مؤقف اپنی جگہ، جبکہ حکومت کی ذمہ داری بھی امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ لیکن جب دونوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں اور طاقت کا استعمال خبروں کی سرخی بن جائے، تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

عوام کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا معاملات بات چیت سے حل ہوں گے یا کشیدگی مزید بڑھے گی؟ کیا سیاسی اختلاف مکالمے میں بدلے گا یا تصادم میں؟

راولاکوٹ اور میرپور کے واقعات پر کھوئی رٹہ کی خواتین سڑکوں پر نکل آئیں

مظاہرین نے راولاکوٹ اور میرپور میں فورسز کی جانب سے مبینہ اندھا دھند فائرنگ اور مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر بھی شدید تنقید کی گئی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے

کھوئی رٹہ میں سخت بارش کے باوجود خراب موسم میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین ایکشن کمیٹی کے حق میں نکل آئے

مظاہرین نے فوری مطالبہ کیا کہ انسانیت کے قتل عام کو فوری بند کیا جائے

کوٹلی گلہار کالونی، نکیال فتح پور تھکیالہ میں نوجوانوں، خواتین و مرد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے