کھوئی رٹہ، میلاد چوک:

آج کھوئی رٹہ میلاد چوک میں ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس نے ہمارے معاشرتی نظام اور قانون کے رکھوالوں کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ بزرگ تاجر راجہ ربنواز کے بیٹے، راجہ عقیل ربنواز، کو ایس ایچ او تھانہ کھوئی رٹہ، راجہ صداقت، نے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔

واقعہ کی تفصیلات:

محض رش کی وجہ سے راجہ عقیل ربنواز کی موٹر سائیکل کا ایس ایچ او کی ٹانگ سے معمولی سا ٹچ ہونا، ایس ایچ او صاحب کے لیے اتنا بڑا جرم تھا کہ انہوں نے ایک بے گناہ شہری کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا دیا۔ موقع پر ہی مار پیٹ کے بعد، ایس ایچ او راجہ صداقت نے مزید ظلم کی حد پار کرتے ہوئے راجہ عقیل کو تھانے لے جا کر پانچ سے چھ اہلکاروں کے ذریعے بہیمانہ تشدد کروایا، جس کے نتیجے میں راجہ عقیل ربنواز لہولہان ہو گئے۔

پولیس کے کردار پر سوالات:

یہ واقعہ ہمارے معاشرتی نظام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ جب قانون کے رکھوالے ہی ظلم کا شکار بناتے ہیں، تو عام شہری کہاں جائیں؟ پولیس کا بنیادی کام عوام کی حفاظت اور انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن جب یہی پولیس عوام کے ساتھ ظلم اور جبر کرتی ہے تو عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کھوئی رٹہ کے شہری ہمیشہ اسی جبر کے نظام میں جینے کے لیے مجبور ہیں؟

مطالبہ:

ہم حکامِ بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کروا کر ایس ایچ او اور تشدد میں ملوث تمام اہلکاروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے، تاکہ آئندہ کسی کو اپنی وردی کے غرور میں معصوم شہریوں پر ظلم ڈھانے کی جرات نہ ہو۔

عوام سے اپیل:

کھوئی رٹہ کے غیرت مند عوام سے اپیل ہے کہ غفلت کی نیند سے جاگیں! اگر آج ہم نے اس ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز نہ اٹھائی تو کل یہی ظلم کسی اور گھر کا چراغ گل کر دے گا۔ ہمیں اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ یہ ظالم کبھی باز نہیں آئیں گے۔

اختتام:

ہم سب کو متحد ہو کر انصاف کی جنگ لڑنی ہوگی، تاکہ آئندہ کسی بے گناہ کو پولیس گردی کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ یہ وقت ہے کہ ہم آواز اٹھائیں اور اپنی کمیونٹی کو اس ظلم سے آزاد کرائیں۔